اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک شیعہ بک سنٹر پر بم دھماکے کے بعد شر پسندوں نے اب تک فایرینگ کا سلسہ بند نہیں کیا اور گذشتہ چند دنوں میں تین مزید شیعہ جوان قتل کیے گیے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کے دورہ گلگت کے وقت سخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے کسی حد تک امن رہا لیکن اس کے بعد دوبارہ شرپسند عناصر سرگرم ہوگئے۔
یادرہے کہ پاکستان کے تمام علاقوں میں اہل تشیع دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور متعدد بار سرکاری افواج کی طرف سے دہشت گرد ٹولوں کے خلاف سرکاری افواج کی کاروائیوں کا انتقام بھی نہتے شیعہ عوام سے لیا گیا ہے اور حال ہی میں شمالی علاقہ جات کو گلگت ـ بلتستان کا حقیقی نام دیئے جانے اور اس علاقے کو داخلی خودمختاری دیئے جانے اور اس علاقے کو صوبائی حیثیت دیئے جانے کے بعد اس علاقے کے عوام اپنی دیرینہ مطالبے کے حصول کا جشن منارہے تھے کہ دہشت گردوں نے اس علاقے میں اپنی سرگرمیوں کو شدت بخشی. اس سے قبل بھی گلگت شہر میں متعدد بار شیعہ املاک اور افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے اور گلگت کے مقامی افراد کے بقول گذشتہ ایک سال سے اس علاقے میں دہشت گردوں کی پراسرار آمد و رفت کا آغاز ہوگیا تھا اور حال ہی میں سوات اور مالاکنڈ میں سرکاری فورسز کی طرف سے دہشت گرد ٹولوں کے خلاف سنجیدہ اقدامات کے بعد اس علاقے میں سرگرم عمل سینکڑوں دہشت گردوں نے فرار ہوکر خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، کوہستان، مانسہرہ اور موجودہ صوبہ گلگت و بلتستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں پناہ لینا شروع کیا تھا اور اب ان تمام علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہگاہیں قائم ہیں جنہیں مقامی دہشت گردوں نے پناہ دے رکھی ہے اور ان کے پاس ہرقسم کی ہتھیار بھی موجود ہیں اور اگر حکومت پاراچنار و کرم ایجنسی اور ہنگو و کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف علاقوں میں اپنا جاری رویہ اپنا کر گلگت میں بھی دہشت گردوں کے ساتھ نرم روی اختیار کرے تو بعید از قیاس نہیں ہے کہ یہ علاقہ بھی بہت جلد کشت و خون اور تباہی اور ویرانی کی تصویر اپنے چہرے پر سجائے اور اس دور افتادہ اور پہاڑوں کے پیچھے علاقے میں انسانی المیئے کی نئی تاریخ رقم ہوجائے حالانکہ پیپلز پارٹی سرکار کے دعوے کے مطابق اس علاقے کو 60 سال کی محرومیوں کے بعد اس پارٹی نے توجہ دینا شروع کی ہے اور اسے شاد و آباد کرنا چاہتی ہے. ہاں البتہ یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کا کوئی بھی وعدہ یا دعوی صرف اسی صورت میں عملی صورت اپنا سکتا ہے کہ سول اور فوجی بیوروکریسی ان دعؤوں اور وعدوں کی حمایت کریں ورنہ صورت حال وہی ہوگی جو آج کرم ایجنسی، ہنگو اور کوہاٹ یا ڈیرہ اسماعیل خان کی ہے جہاں یک بام و دو ہوا کی پالیسی جاری ہے اور اگر وزیرستان اور سوات میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں ہوتی ہیں تو ان علاقوں میں ان کے سروں پر دست شفقت پھیرا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا سرکار پاکستان گلگت میں بھی یہی پالیسی اپنائے گی؟؟؟